حیدرآباد:۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے آندھرا پردیش تنظیم نو ایکٹ 2014 کی دفعہ 23 کے تحت ایم ایل سی نشستوں کی تقسیم کو چیلنج کرنے والی مفاد عامہ کی درخواست پر مرکز اور ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کیے۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ اس دفعہ نے تلنگانہ قانون ساز کونسل کی آئینی ساخت کو متاثر کیا ہے۔
چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین پر مشتمل ڈویژن بنچ نے درخواست کی سماعت کی۔ سید افتخار حسینی نے مفاد عامہ کی درخواست دائر کی۔ ان کی جانب سے وکیل برکت علی خان نے دلائل پیش کیے۔ بعد ازاں عدالت نے فریقین کو اپنے جوابات داخل کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت اگلے ہفتے مقرر کی۔
آئینی فارمولے پر اعتراض | Legislative Council
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ دفعہ 23 میں آئین کے آرٹیکل 171(3) کی غلط تشریح کی گئی ہے۔ ان کے مطابق اسی بنیاد پر قانون ساز کونسل کی نشستوں کی تقسیم کا حساب بھی غلط کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل سے 2 نشستیں گورنر کے نامزد ارکان کے زمرے سے منتقل کر دی گئیں۔
درخواست میں کہا گیا کہ یہ نشستیں مقامی اداروں اور ارکان اسمبلی کے زمرے میں شامل کر دی گئیں۔ لہٰذا یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 14، آرٹیکل 171(3)(a) اور آرٹیکل 171(3)(d) سے متصادم ہے۔
گورنر کے نامزد ارکان کے کوٹے کا معاملہ | Legislative Council
درخواست گزار نے کہا کہ دستور ساز اسمبلی نے 2 جون 1949 کو قانون ساز کونسل کی آئینی ساخت کو حتمی شکل دی تھی۔ تاہم آندھرا پردیش تنظیم نو ایکٹ کی دفعہ 23، 2 جون 2014 سے نافذ ہوئی۔ ان کے مطابق اس ترمیم نے 65 سال بعد آئینی توازن کو متاثر کیا۔
انہوں نے عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 کی دفعہ 10 کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 171(5) کے تحت گورنر کو خصوصی علم یا عملی تجربہ رکھنے والے افراد کو نامزد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ چنانچہ گورنر کے کوٹے میں 25 فیصد کمی سے ماہرین کی نمائندگی کمزور ہوئی ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ مقامی اداروں اور ارکان اسمبلی کے لیے 13 کے بجائے 14، 14 نشستیں مختص کی گئیں۔ درخواست گزار کے مطابق یہ تقسیم آئین میں مقررہ فارمولے سے مطابقت نہیں رکھتی۔ مزید برآں انہوں نے الزام عائد کیا کہ آئینی فارمولے کا اطلاق یکساں انداز میں نہیں کیا گیا۔ یوں قانون ساز کونسل کی مجموعی ساخت متاثر ہوئی۔
ہائی کورٹ نے تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔
