حیدرآباد:۔ ضلع الیکشن افسر اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے کمشنر نے منگل کے روز ملک پیٹ اسمبلی حلقے کے چنچل گوڑہ چھاؤنی میں پولنگ اسٹیشن 274 اور 283 کا دورہ کیا۔ انہوں نے ایس آئی آر 2026 کے تحت جاری گھر گھر اینومریشن (اندراج) عمل کا جائزہ لیا۔

ضلع الیکشن افسر نے شہریوں اور بوتھ لیول افسران سے بات چیت کی۔ تاہم انہوں نے انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے کام کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔

گھر گھر اینومریشن عمل کی جانچ | Electoral Roll Revision

ضلع الیکشن افسر نے اس بات کی تصدیق کی کہ عملہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ہدایات کے مطابق کام کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بوتھ لیول افسران کو ہر گھر کا دورہ کرنے کی ہدایت دی۔

انہوں نے کہا کہ تمام اہل ووٹروں کو اینومریشن فارم فراہم کیے جائیں۔ مزید برآں ہر اہل شہری کو انتخابی فہرست میں شامل کرنے کے لیے ضروری تعاون بھی فراہم کیا جائے۔

شفاف اور درست نظرثانی پر زور | Electoral Roll Revision

ضلع الیکشن افسر نے فیلڈ عملے کو ہدایت دی کہ نظرثانی کا عمل پوری ذمہ داری سے مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام معلومات درست اور شفاف انداز میں درج کی جائیں۔

چنانچہ ہر اہل ووٹر کو انتخابی فہرست میں شامل کیا جائے۔ بعد ازاں متعلقہ حکام کو جامع، درست اور شمولیتی انتخابی فہرستیں برقرار رکھنے کی بھی ہدایت دی گئی۔

حیدرآباد:۔ بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے کارگزار صدر کے تارک راما راؤ (کے ٹی آر) نے کہا کہ عالمی بینک کی تازہ درجہ بندی تلنگانہ کی معاشی ترقی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ نے ریاست کو مالی طور پر دیوالیہ قرار دینے والے دعوؤں کو بھی مسترد کر دیا ہے۔

کے ٹی راما راؤ نے یہ بیان ایکس پر اپنی پوسٹ میں دیا۔ یہ ردعمل عالمی بینک کی جانب سے تلنگانہ کو اپر مڈل انکم کی حد عبور کرنے والی بھارت کی 5 ریاستوں میں شامل کیے جانے کے بعد سامنے آیا۔

سابق حکومت کی کارکردگی کا حوالہ | World Bank Milestone

کے ٹی راما راؤ نے سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ کی قیادت کو اس کامیابی کا سہرا دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی قیادت میں تلنگانہ مالی طور پر پسماندہ خطے سے ملک کی خوشحال ریاستوں میں شامل ہوا۔

مزید برآں انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی ریاست کے عوام کی محنت، صلاحیت اور ذہانت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران ترقی میں کردار ادا کرنے والے تمام شہریوں کو مبارکباد بھی دی۔

معاشی ترقی پر سیاسی ردعمل | World Bank Milestone

کے ٹی راما راؤ نے ان افراد کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے تلنگانہ کو مالی طور پر دیوالیہ قرار دیا تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کی تازہ رپورٹ نے ایسے تمام دعوؤں کا مؤثر جواب دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی اور بین الاقوامی اداروں نے بھی تلنگانہ کی معاشی ترقی کو تسلیم کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے مطابق ریاست میں بڑھتی ہوئی فی کس آمدنی، ریاستی تشکیل کے فوائد کی عکاسی کرتی ہے۔

بعد ازاں کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ تلنگانہ کی معاشی کامیابیاں سابق کے سی آر حکومت کے ترقیاتی ماڈل کا نتیجہ ہیں۔

حیدرآباد:۔ تلنگانہ عالمی بینک کی اپر مڈل انکم معیشتوں کے زمرے میں شامل ہو گیا ہے۔ ریاست نے فی کس آمدنی کی مقررہ حد عبور کرکے یہ مقام حاصل کیا۔

2025-26 کے تخمینوں کے مطابق تلنگانہ کی فی کس آمدنی ₹4,18,931 رہی۔ یہ تقریباً USD 5,407 کے برابر ہے۔

عالمی درجہ بندی میں نمایاں مقام | Upper Middle Income

عالمی بینک کے مطابق USD 4,636 سے USD 14,375 تک فی کس آمدنی رکھنے والی معیشتیں اپر مڈل انکم زمرے میں شامل ہوتی ہیں۔ تلنگانہ اس معیار پر پورا اترنے والی بھارت کی صرف 5 ریاستوں میں شامل ہے۔

تلنگانہ اس فہرست میں تیسرے نمبر پر رہا۔ تاہم دہلی USD 6,217 کے ساتھ پہلے اور کرناٹک USD 5,579 کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

مزید برآں تلنگانہ نے تمل ناڈو اور گجرات کو پیچھے چھوڑ دیا۔ تمل ناڈو کی فی کس آمدنی USD 5,329 جبکہ گجرات کی USD 4,734 ریکارڈ کی گئی۔

2014 میں ریاست کے قیام کے وقت فی کس آمدنی ₹1.24 لاکھ تھی۔ بعد ازاں یہ بڑھ کر 2025-26 میں تقریباً ₹4.19 لاکھ تک پہنچ گئی۔

معیشت میں مسلسل وسعت | Upper Middle Income

تلنگانہ کی فی کس آمدنی قومی اوسط سے تقریباً 1.9 گنا زیادہ رہی۔ 2025-26 کے لیے قومی اوسط ₹2.19 لاکھ کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

رنگا ریڈی ضلع نے ₹11.29 لاکھ کے ساتھ ریاست میں سب سے زیادہ فی کس آمدنی ریکارڈ کی۔ اس کے علاوہ حیدرآباد ₹4.77 لاکھ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔

2019-20 سے 2024-25 تک تلنگانہ بڑی ریاستوں میں فی کس آمدنی کے لحاظ سے پہلے نمبر پر رہا۔ تاہم 2025-26 کے تخمینوں میں کرناٹک اس سے آگے نکل گیا۔

ریاست کی مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار 2014 سے 2023 کے درمیان اوسطاً 12.7 فیصد سالانہ بڑھی۔ دوسری جانب قومی اوسط 10.5 فیصد رہی۔

2025-26 کے لیے تلنگانہ کی مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار ₹17.82 لاکھ کروڑ رہنے کا اندازہ ہے۔ چنانچہ ریاست کی اقتصادی شرح نمو 10.7 فیصد متوقع ہے۔

اسی دوران بھارت کی مجموعی معیشت میں تلنگانہ کا حصہ 2014-15 کے 4 فیصد سے بڑھ کر 2022-23 میں 4.8 فیصد ہو گیا۔ تاہم حالیہ معاشی اشاریوں کے مطابق ترقی کی رفتار میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن ریاست اب بھی ملک کی نمایاں معیشتوں میں شمار ہوتی ہے۔

حیدرآباد:۔ سوریہ پیٹ ضلع کے تنگاترتی اسمبلی حلقے میں منگل کے روز کانگریس کے دو گروپوں کے درمیان شدید تصادم پیش آیا۔ دونوں گروپوں کے حامیوں نے مبینہ طور پر ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا اور لاٹھیوں کا استعمال کیا۔

پولیس نے فوری مداخلت کرتے ہوئے دونوں گروپوں کو منتشر کیا۔ تاہم ہنگامے کے دوران پولیس کی چند گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

تنظیمی تقرریوں پر اختلاف | Congress Faction Clash

یہ تصادم تنگاترتی کے رکن اسمبلی منڈولا سیموئیل، رکن پارلیمنٹ چمالا کرن کمار ریڈی اور سابق وزیر رام ریڈی دامودر ریڈی کے حامیوں کے درمیان ہوا۔ مقامی کانگریس یونٹ میں اندرونی اختلافات گزشتہ چند ہفتوں سے شدت اختیار کر رہے تھے۔

پارٹی کے ایک گروپ نے رکن اسمبلی کی کارکردگی کے خلاف “چلو گاندھی بھون” احتجاج کی کال دی تھی۔ اسی دوران رکن اسمبلی کے حامیوں نے مبینہ طور پر اروا پلی کے مقام پر انہیں روک لیا۔

اس کے بعد دونوں گروپوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ چنانچہ صورتحال پرتشدد جھڑپ میں تبدیل ہوگئی۔

پارٹی کے اندر بڑھتی بے چینی | Congress Faction Clash

کانگریس کارکنوں کے مطابق تنظیمی عہدوں کی تقسیم پر ناراضی بڑھ رہی ہے۔ مزید برآں کئی سینئر رہنماؤں نے الزام لگایا کہ طویل عرصے سے پارٹی سے وابستہ کارکنوں کو نظر انداز کیا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حال ہی میں پارٹی میں شامل ہونے والے رہنماؤں کو زیادہ ترجیح دی گئی۔ اس کے علاوہ منڈل صدور کی تقرری پر بھی شدید اختلافات سامنے آئے۔

احتجاج کرنے والے کارکنوں نے الزام لگایا کہ رکن اسمبلی نے تقرریوں میں یکطرفہ فیصلے کیے۔ دوسری جانب سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت بننے کے بعد کئی حلقوں میں پرانے اور نئے کارکنوں کے درمیان ایسے اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔

بعد ازاں مبصرین نے کہا کہ اگر پارٹی قیادت نے بروقت مداخلت نہ کی تو یہ اختلافات مزید حلقوں تک پھیل سکتے ہیں۔ آئندہ انتخابی معرکوں سے قبل یہ صورتحال کانگریس کے لیے ایک اہم چیلنج بن سکتی ہے۔

حیدرآباد:۔ تلنگانہ بی جے پی کے صدر این رام چندر راؤ نے دھرانی اور بھو بھارتی زمینی ریکارڈ نظام کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم سے جانچ کرانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے حکومت سے دونوں پلیٹ فارمز میں مبینہ بے ضابطگیوں کی مکمل تحقیقات کرانے کی اپیل کی۔

این رام چندر راؤ نے منگل کے روز بی جے پی کے ریاستی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس اور بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) عوام کی توجہ زمین سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

کالیشورم پر سیاست کا الزام | Dharani SIT Probe

رام چندر راؤ نے کہا کہ کنی پلی اور کالیشورم کے معاملات کو سیاسی بحث کا موضوع بنایا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کا مقصد عوامی توجہ اصل مسائل سے ہٹانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کالیشورم منصوبے پر بی جے پی کا مؤقف نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی کی رپورٹ پر مبنی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے حکومت سے ماہرین کی سفارشات کے مطابق فوری مرمتی کام شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کی وجہ سے کسانوں کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ چنانچہ حکومت کو محاذ آرائی کے بجائے عملی اقدامات کرنے چاہییں۔

تاتی چرلہ-2 کول بلاک پر بیان | Dharani SIT Probe

رام چندر راؤ نے دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت نے تاتی چرلہ-2 کول بلاک بغیر نیلامی سنگارینی کو الاٹ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے تقریباً ₹64,000 کروڑ کی آمدنی حاصل ہوگی اور قریب 1,200 روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے اس کامیابی کا سہرا مرکزی حکومت اور مرکزی وزیر جی کشن ریڈی کو دیا۔ مزید برآں انہوں نے کانگریس کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ منصوبہ اس کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

رام چندر راؤ نے سوال کیا کہ اگر کانگریس کا دعویٰ درست تھا تو متحدہ ترقی پسند اتحاد کے دور میں یہ کول بلاک کیوں الاٹ نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے مرکزی حکومت اور جی کشن ریڈی کا شکریہ بھی ادا کیا۔

حیدرآباد:۔ سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے تلنگانہ حکومت پر آبپاشی کے شعبے میں غفلت برتنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ بالائی ریاستوں میں شدید بارش کے باوجود دستیاب دریا کے پانی سے تالاب نہیں بھرے گئے۔

ٹی ہریش راؤ نے یہ ریمارکس منگل کے روز تلنگانہ بھون میں کالیشورم منصوبے پر پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کے دوران کیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے دستیاب وسائل سے فائدہ نہیں اٹھایا۔

حکومت پر سنگین الزامات | Irrigation Negligence

ٹی ہریش راؤ نے دعویٰ کیا کہ ضلع ورنگل کے تقریباً 90 فیصد تالاب بارش کی کمی کے باعث خشک ہو چکے ہیں۔ تاہم حکومت نے لفٹ اریگیشن پمپ چلانے کے بجائے پانی کو نشیبی علاقوں کی طرف چھوڑ دیا۔

انہوں نے کہا کہ دیوادولا لفٹ اریگیشن اسکیم کے پمپ عموماً پانی کی سطح 71 میٹر ہونے پر چلائے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت پانی کی سطح 75 میٹر ہے۔ اس کے باوجود متعلقہ حکام نے پمپ شروع نہیں کیے۔

مزید برآں انہوں نے الزام لگایا کہ دیوادولا منصوبے میں نصف سے زیادہ موٹروں کو بند رکھا گیا ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو “مجرمانہ غفلت” قرار دیا۔

وزیر اعلیٰ کو چیلنج | Irrigation Negligence

ٹی ہریش راؤ نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی اور وزیر آبپاشی این اتم کمار ریڈی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے کالیشورم منصوبے کے بارے میں منفی رویہ اختیار کیا ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ دیوادولا منصوبے کے ذریعے پانی کیوں نہیں اٹھایا جا رہا۔ چنانچہ انہوں نے حکومت سے اس کی وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا۔

ٹی ہریش راؤ نے وزیر اعلیٰ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر مہاراشٹر کی جانب سے تمڈی ہٹی میں 152 میٹر فل ریزروائر لیول کی منظوری کا کوئی سرکاری دستاویز پیش کیا جائے تو وہ رکن اسمبلی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ بصورت دیگر انہوں نے وزیر اعلیٰ سے عوامی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔

بعد ازاں انہوں نے کہا کہ کالیشورم منصوبے سے متعلق وزیر اعلیٰ کے حالیہ بیانات کا وہ ایک ایک کرکے جواب دیں گے۔

حیدرآباد:۔ تلنگانہ کے نائب وزیر اعلیٰ بھٹی وکرامارکا ملو نے منگل کے روز سابق وزیر اعلیٰ وائی ایس راج شیکھر ریڈی(وائی ایس آر) کی یوم پیدائش پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ تقریب پنجہ گٹہ میں سٹی سینٹر کے قریب واقع ان کے مجسمے کے پاس منعقد ہوئی۔

بھٹی وکرامارکا نے وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے مجسمے پر گلپوشی کی۔ بعد ازاں انہوں نے کیک کاٹا اور مرحوم رہنما کی عوامی خدمات کو یاد کیا۔

یادگاری تقریب کا انعقاد | YSR Birth Anniversary

تقریب میں وزیر ڈی شریدھر بابو بھی شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ سابق رکن پارلیمنٹ کے وی پی رام چندر راؤ نے بھی خراج عقیدت پیش کیا۔

مزید برآں کانگریس رہنماؤں، عوامی نمائندوں اور پارٹی کارکنوں نے تقریب میں شرکت کی۔ انہوں نے مرحوم رہنما کی سیاسی اور عوامی خدمات کو سراہا۔

خدمات کو خراج عقیدت | YSR Birth Anniversary

کانگریس رہنماؤں نے وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی عوامی فلاح کے لیے خدمات کو یاد کیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی عوام دوست پالیسیاں آج بھی لوگوں کو یاد ہیں۔

بعد ازاں شرکاء نے مرحوم رہنما کو خراج عقیدت پیش کیا۔ چنانچہ یوم پیدائش کی تقریب عقیدت اور احترام کے ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔

حیدرآباد:۔ کاماریڈی شہر کی سری رام نگر کالونی میں بدھ کے روز آوارہ کتے کے حملے میں 5 خواتین زخمی ہو گئیں۔ واقعے کے بعد مقامی رہائشیوں نے بلدیہ پر مسلسل شکایات نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا۔

رہائشیوں کے مطابق آوارہ کتے نے کالونی سے گزرنے والی خواتین پر اچانک حملہ کیا۔ حملے میں ان کے سر، ران، ٹانگوں اور ہاتھوں پر زخم آئے۔

خواتین پر اچانک حملہ | Stray Dog Attack

زخمی ہونے والوں میں راجاوا، تروپتما اور کالونی کی 3 دیگر خواتین شامل ہیں۔ تمام زخمیوں کو فوری طبی امداد کی ضرورت پیش آئی۔

تروپتما اپنے پوتے کے ساتھ کرانہ کی دکان جا رہی تھیں۔ تاہم اسی دوران آوارہ کتے نے ان پر حملہ کر دیا۔

انہوں نے بچے کو بچانے کی کوشش کی۔ اس کے باوجود کتے نے انہیں زمین پر گرا دیا اور سر اور ران پر کاٹ لیا۔

مزید برآں مقامی رہائشی فوراً موقع پر پہنچ گئے۔ چنانچہ انہوں نے کتے کو بھگا کر مزید حملوں کو روک دیا۔

بعد ازاں اسی کتے نے راجاوا، 2 دیگر خواتین اور اسکوٹر پر سوار ایک خاتون پر بھی حملہ کیا۔ اس واقعے سے کالونی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

رہائشیوں کا فوری کارروائی کا مطالبہ | Stray Dog Attack

رہائشی زخمی خواتین کو علاج کے لیے کاماریڈی گورنمنٹ اسپتال منتقل کر دیا۔ ڈاکٹرز نے تمام زخمیوں کو ضروری طبی امداد فراہم کی۔

اس کے علاوہ مقامی افراد نے الزام لگایا کہ وہ کئی مرتبہ بلدیہ سے آوارہ کتوں پر قابو پانے کی درخواست کر چکے ہیں۔ تاہم ان کی شکایات پر کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔

رہائشیوں نے مطالبہ کیا کہ کالونی سے آوارہ کتوں کو فوری ہٹایا جائے۔ لہٰذا مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

حیدرآباد:۔ تلنگانہ کے وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے کہا کہ حکومت مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں کو بھی شہری علاقوں جیسی سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔

وزیر نے ناگرکرنول ضلع کے دورے کے دوران تمّاجی پیٹ بس اسٹینڈ پر سی سی روڈ کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس منصوبے پر ₹11.5 لاکھ کی لاگت آئے گی۔

مسافروں کے لیے بہتر سہولیات | Transport Infrastructure

پونم پربھاکر نے کہا کہ تمّاجی پیٹ بس اسٹینڈ سے روزانہ بڑی تعداد میں مسافر سفر کرتے ہیں۔ تاہم موجودہ سڑک کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئی سی سی روڈ سے گرد اور کیچڑ کے مسائل ختم ہوں گے۔ اس کے علاوہ مسافروں اور گاڑی چلانے والوں کو بہتر سہولت حاصل ہوگی۔

وزیر نے متعلقہ حکام کو مقررہ مدت میں کام مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ مزید برآں انہوں نے تعمیراتی معیار برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔

بجلی کے نظام کو بھی تقویت | Transport Infrastructure

بعد ازاں پونم پربھاکر نے بزن پلی منڈل کے پالیم گاؤں میں نئے 33/11 کے وی بجلی سب اسٹیشن کا افتتاح کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے دیہی علاقوں میں بجلی کی فراہمی مزید مستحکم ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ نیا سب اسٹیشن معیاری اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی میں مدد دے گا۔ چنانچہ مقامی صارفین کو بہتر خدمات حاصل ہوں گی۔

اسی دوران وزیر نے سابق وزیر اعلیٰ وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی یوم پیدائش پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ تقریب میں ایم ایل سی کوچوکلا دامودر ریڈی، ناگرکرنول کے رکن اسمبلی کوچوکلا راجیش ریڈی، ضلع کلکٹر ہیمنت کیشو پاٹل، ریجنل ٹرانسپورٹ آفیسر ای آرچنا، محکمہ بجلی کے افسران اور عوامی نمائندے بھی موجود تھے۔

حیدرآباد:۔ تلنگانہ حکومت نے سابق رکن اسمبلی کومّڈی نرسمہا ریڈی کی آخری رسومات سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ان کے انتقال کے بعد کیا گیا۔

کومّڈی نرسمہا ریڈی غیر منقسم آندھرا پردیش میں بھونگیر اسمبلی حلقے کی نمائندگی کر چکے تھے۔ ان کا منگل کے روز حیدرآباد میں انتقال ہوا۔ تاہم حکومت نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔

سرکاری اعزازات کا فیصلہ | Official Funeral Honours

چیف سکریٹری سنجے جاجو نے محکمہ جنرل ایڈمنسٹریشن کو ضروری احکامات جاری کرنے کی ہدایت دی۔ چنانچہ محکمہ نے بدھ کے روز سرکاری حکم نامہ جاری کر دیا۔

مزید برآں سنجے جاجو نے یادادری بھونگیر کے ضلع کلکٹر انوراگ جینتی کو تمام انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ اسی دوران ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو بھی سرکاری پروٹوکول پر عمل درآمد یقینی بنانے کا حکم دیا گیا۔

انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت | Official Funeral Honours

ضلعی حکام آخری رسومات کے تمام انتظامات مقررہ حکومتی ضابطوں کے مطابق انجام دیں گے۔ اس کے علاوہ سرکاری اعزازات کی تمام کارروائی بھی طے شدہ پروٹوکول کے تحت مکمل کی جائے گی۔

تلنگانہ حکومت نے مرحوم رہنما کی عوامی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔ بعد ازاں متعلقہ حکام کو تمام انتظامات بروقت مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔