حیدرآباد:۔ تلنگانہ حکومت کے مشیر محمد علی شبیر نے ہفتہ کے روز کالیشورم منصوبے پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سیاسی فیصلوں نے انجینئرنگ مہارت کو پس پشت ڈال دیا۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ اس طرز عمل کے سنگین نتائج سامنے آئے۔
خیریت آباد کے ویسویسوریا بھون میں ادارۂ انجینئرز اور تلنگانہ ریٹائرڈ انجینئرز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام تلنگانہ انجینئرز ڈے تقریب منعقد ہوئی۔ محمد علی شبیر نے تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سابق بی آر ایس حکومت نے ماہرین کی رائے، تکنیکی اصولوں اور مالی احتیاط کو نظر انداز کیا۔ ان کے مطابق اس سے ₹1 لاکھ کروڑ سے زیادہ عوامی سرمایہ خطرے میں پڑ گیا۔
نواب علی نواز جنگ کی خدمات کا ذکر | Kaleshwaram Criticism
محمد علی شبیر نے کہا کہ تلنگانہ انجینئرز ڈے نواب علی نواز جنگ بہادر کی یوم پیدائش پر منایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن پیشہ ورانہ دیانت، سائنسی منصوبہ بندی اور انجینئرنگ کی بہترین روایت کی علامت ہے۔ مزید برآں انہوں نے نواب علی نواز جنگ کو تلنگانہ میں جدید آبپاشی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا معمار قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ نواب علی نواز جنگ نے عثمان ساگر، حمایت ساگر اور نظام ساگر جیسے منصوبوں میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جامعہ عثمانیہ اور عثمانیہ جنرل اسپتال کی منصوبہ بندی میں بھی حصہ لیا۔ ان کے مطابق یہ منصوبے سائنسی تحقیق، محتاط منصوبہ بندی اور پیشہ ورانہ نظم و ضبط کی بنیاد پر تیار کیے گئے تھے۔ یوں یہی وجہ ہے کہ یہ آج بھی مضبوطی سے قائم ہیں۔
کالیشورم منصوبے پر سوالات | Kaleshwaram Criticism
محمد علی شبیر نے کالیشورم منصوبے کا موازنہ ان تاریخی منصوبوں سے کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ افتتاح کے صرف 2 سال بعد منصوبے کے اہم حصوں میں سنگین مسائل پیدا ہو گئے۔ حکومتی مشیر نے میڈی گڈہ بیراج کے ستونوں کے دھنسنے اور انارم و سندیلا بیراجوں سے متعلق ساختی خدشات کا بھی حوالہ دیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ سابق وزیراعلیٰ کے چندرشیکھر راؤ نے منصوبے میں سیاسی بنیادوں پر تبدیلیاں کیں۔ تاہم تجربہ کار انجینئروں کی رائے کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تمڈی ہٹی میں اصل پرانہیتا۔چیویلا منصوبہ ترک کر دیا گیا، حالانکہ نہروں اور دیگر کاموں پر پہلے ہی بڑی رقم خرچ ہو چکی تھی۔
نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی کی رپورٹ کا حوالہ | Kaleshwaram Criticism
محمد علی شبیر کے مطابق ریٹائرڈ انجینئروں کی ایک کمیٹی نے منصوبہ میڈی گڈہ منتقل کرنے کی مخالفت کی تھی۔ چنانچہ انہوں نے الزام لگایا کہ اس سفارش کو بھی نظر انداز کر دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تکنیکی منظوری مکمل ہونے سے پہلے ٹھیکے دیے گئے۔ ان کے مطابق پہلے تکنیکی منظوری ہونی چاہیے، پھر تعمیراتی کام شروع ہونا چاہیے۔
انہوں نے نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق رپورٹ میں منصوبہ بندی، ڈیزائن، تعمیر، آپریشن اور دیکھ بھال پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ میڈی گڈہ، انارم اور سندیلا بیراجوں میں بحالی کے اقدامات بھی ضروری قرار دیے گئے۔
بعد ازاں محمد علی شبیر نے سوال کیا کہ اگر منصوبہ محفوظ ہے تو بیراج مکمل طور پر کیوں نہیں چل رہے۔ انہوں نے سابق وزیر آبپاشی ٹی ہریش راؤ اور کے چندرشیکھر راؤ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ آخر میں انہوں نے انجینئروں پر زور دیا کہ وہ پیشہ ورانہ اصولوں پر قائم رہیں۔ انہوں نے حکومتوں سے ہر مرحلے پر انجینئروں کی تکنیکی رائے کو شامل کرنے کی بھی اپیل کی۔
